پاکستانی خبریں

ملٹری قیادت کی درخواست، سول حکومت کی جانب سے ارشد شریف قتل کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن سے کرانے کا فیصلہ

خلیج اردو

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

 

اپنے ویڈیو بیان میں  وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کینیا میں پاکستان کے سینیئر صحافی ارشد شریف کے ساتھ اندوہناک  واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔پاکستان کی عوام ارشد شریف کی موت پر انتہائی افسردہ ہے۔

 

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔میں نے سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل کینیا کے صدر سے بات کی تھی اور ان سے گزارش کی  تھی وہ تحقیقاتی رپورٹ فوری بھجوائیں۔

 

مسٹر شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کینیا کے صدر سے ارشد شریف کی میت کی روانگی کےلئے کردار ادا کرنے کےلئے کہا اور یقین دلایا  کہ وہ اس معاملے پر کوئی کسرنہیں چھوڑیں گے۔ کینیا کے صدر نے ارشد شریف کی موت پر مجھ سے اظہار افسوس کیا۔

 

وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ آج فیصلہ کیاہے کہ واقعے کی  اعلیٰ عدالتی کمیشن سے شفاف تحقیقات کرائیں گے۔ کمیشن بنانے کےلئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کو درخواست دینگے۔اس فیصلے کی وفاقی کابینہ سے بھی توثیق کرائی جائے گی۔

 

انہوں نے یقین دلایا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوںگی،حقائق قوم کے سامنے لائیں گے۔

 

قبل ازیں حکومتی ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے ہائیکورٹ کےجج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں کمیشن کا سربراہ سول سوسائٹی اور میڈیا سے بھی ارکان لے سکے گا۔

 

 

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے مرحوم ارشد شریف کے قتل کے اصل حقائق کے تعین کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔

 

دوسری طرف افواج پاکستان کے جنرل ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیو نے وفاقی حکومت کو ایک خط لکھ کر ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔ خط میں درخواست کی واقعے پرانکوائری کمیشن بنایا جائے۔جی ایچ کیو کی جانب سے یہ استدعا بھی کی گئی  ہے کہ الزامات لگانے والوں کےخلاف آئین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button