پاکستانی خبریں

پاکستان میں ہیومن رائٹس ایکٹیویسٹ ایمان زینب مزاری کو ضمانت پر رہائی مل گئی،سوشل میڈیا کا ایک سیشکن اس رہائی سے خوش نہیں

خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان میں انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی خاتون وکیل ایمان زینب مزاری کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے دہشتگردوں کی مبینہ معاونت کے مقدمے میں ضمانت پر رہائی دیدی ہے۔

عدالت نے دس ہزار روپے مچلکوں کے عوض انہیں رہا کرنے کا حکم دیا جس کے بھی تھانہ ویمن پولیس اسٹیشن اسلام آباد سے رہا بھی کر دیا گیا۔

جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ ایڈوکیٹ ایمان مزاری کی والدہ شیری مزاری اور وکلا عدالت کے سامنے پیش ہوئے، دلائل مکمل ہونے عدالت نے بیس ہزار روپے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔ بعد ازاں جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے مچلکوں کو کم کرکے دس ہزار روپے کر دئیے۔

عدالتی حکم پر ایڈووکیٹ ایمان مزاری کو اسلام آباد کے تھانہ ویمن پولیس اسٹیشن سے رہا کیا گیا، ایمان مزاری وکلا کے ہمراہ گھر روانہ ہو گئیں۔

دوسری طرف ایمان مزاری کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے انہیں کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی۔

مزاری کی رہائی پر سوشل میڈیا کا ایک حصہ خوش نہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جس مقدمے میں انہیں رہائی ملی، ایسے مقدمے میں دیگر سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کو ریلیف نہیں مل رہا۔ وقاص نامی سوشل میڈیا یوزر نے لکھا ہے کہ ایلیٹ کلاس ایمان مزاری رہا ہو گئی،جبکہ صنم جاوید ، طیبہ راجہ 4 ماہ پابند سلاسل کے بعد پھر جسمانی ریمانڈ دے دیا گیا۔

سنیئر صحافی اور سیاست دان حفیظ اللہ نیازی نے اس رہائی کے بعد اپنے اسیر بیٹے حسان نیازی کے ساتھ روا رکھے گئے معیار پر شکواہ کیا ہے۔

جہاں مختلف حلقوں نے تنقید کی ہے وہاں پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور احمد نے اس رہائی کو خوش آئیند قرار دیا ہے۔

 

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button