پاکستانی خبریں

معافی نہیں مانگوں گی، ن لیگی کارکن عظمی بخاری کی جانب سے سنیئر صحافی پر سنگین الزام کے بعد وضاحت

خلیج اردو
لاہور: پاکستان میں سیاسی جماعت مسلم لیگ ن کی ایک کارکن عظمی بخاری جو سوشل میڈیا پر کافی متحریک ہے، اس وقت شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اس کی شروع ان کے ایک ٹویٹ سے ہوئی جس میں انہوں نے ایک صحافی طارق متین پر ان کے اپنے ہی بھائی کو قتل کرنے کا سنگین الزام لگایا گیا ہے۔

طارق متین کے بھائی کو کراچی میں ایک ڈکیتی کی واردات کے دوران مسلح افراد نے قتل کیا تھا۔

عظمی بخاری جو سوشل میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پر تنقید کررہی تھی، ان کے ایک ٹویٹ کے جواب میں طارق متین نے سوال اٹھایا کہ پاکستان میں امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کا وکیل کون تھا۔

اس کے جواب میں عظمی بخاری سیخ پا ہوگئی اور انہوں نے جواب میں سوال پوچھا کہ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ وکیل ہونا زیادہ شرم ناک ہے یا جائیداد کی وجہ سے اپنے بھائی کو مروا دینا؟سوال یہ بھی اٹھتا ہے نہیں۔

طارق متین کو یہ سوال کافی تکلیف دہ لگا اور ان کی حمایت میں مختلف صحافیوں نے بھی ٹویٹ کیئے۔ سوشل میڈیا پر عظمی بخاری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ طارق متین سے معافی مانگ کر اپنا کیا ہوا ٹویٹ ڈیلیٹ کرے۔

تاہم عظمیٰ بخاری نے مطالبہ مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ مجھے اخلاقیات کا درس دینے والے صحافی حضرات کو یہ نظر نہیں آیا کہ ایک شخص جو دنیا سے جاچکا ہے اس پہ بغیر کسی قصور کے بہتان لگائے جاتے ہیں تب آپکی اخلاقیات گھاس چرنے چلی جاتی ہے؟میرے والد مرحوم کو خواہ مخواہ ریمنڈ ڈیوس واقعے میں سالوں سے گھسیٹا جاتا ہے،جو ٹرائل کے لئے وکیل مقرر ہوئے.

انہوں نے لکھا کہ اپنی کتاب میں اپنے وکیل راجہ ارشاد،حکومتوں، ملکوں اور اسٹیبلشمنٹ کے رول کے بارے میں بتا چکا ہے،ٹرائل تو اسکا ہوا ہی نہیں،پھر بھی مسلسل بکواس،مجھ سے ذاتی طور پر اختلاف کرو،مجھے اعتراض نہیں لیکن میرے مرحوم والد کے بارے میں منہ توڑ جواب دوں گی۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button