پاکستانی خبریں

جسٹس قاضی فائیز عیسیٰ کے بڑے فیصلے کے ایک دن بعد وزیراعظم شہباز شریف کا بھی بڑا فیصلہ، جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف کیورویٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کا حکم دیدیا۔ 

خلیج اردو
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر قانون سینیٹر اعظم نزیر تارڑ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹیو ریویو ریفرنس واپس لینے کی ہدایت کر دی ہے ۔

 

شہباز شریف نے کہا کہ یہ ریفرنس نہیں تھا، آئین اور قانون کی راہ پر چلنے والے ایک منصف مزاج جج کے خلاف عمران نیازی کی انتقامی کارروائی تھی۔۔یہ عدلیہ کی آزادی پر شب خون اور اسے تقسیم کرنے کی مذموم سازش تھی۔۔۔ن لیگ اور اتحادی جماعتوں نے اپوزیشن کے دور میں بھی اس جھوٹے ریفرنس کی مذمت کی تھی۔

 

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عمران نیازی نے صدر کے آئینی منصب کا اس مجرمانہ فعل کے لئے ناجائز استعمال کیا۔صدر عارف علوی عدلیہ پر حملے کے جرم میں آلہ کار اور ایک جھوٹ کے حصہ دار بنے۔۔۔پاکستان بار کونسل سمیت وکلا تنظیموں نے بھی اس کی مخالفت کی تھی، ان کی رائے کی قدر کرتے ہیں۔

 

وزیر اعظم کے فیصلے سے ایک دن قبل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے دو ایک کے تناسب سے ایک فیصلے میں حکم دیا تھا کہ آئین میں سوموٹو کا کوئی کا لفظ نہیں،جو دوسروں کا احتساب کرتے ہیں ان کا خود احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کے خلاف ہے،،، رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے۔

 

اس فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ سوموٹو مقدمات مقرر کرنے اور بنچز کی تشکیل کیلئے رولز موجود نہیں،،، رولز کی تشکیل تک اہم آئینی اور ازخود مقدمات پر سماعت مؤخر کی جائے،،،تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کیخلاف ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر پابندی عائد کی، ضلعی عدلیہ کے ججز سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججز سے زیادہ کام کرتے ہیں لیکن پیمرا نے کبھی ضلعی عدلیہ کے ججز پر تنقید کیخلاف پابندی عائد نہیں کی، دوسروں کو قابل احتساب بنانے والے ججز کا احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کیخلاف ہے۔ جسٹس شاہد وحید نے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ جن معاملات پر فیصلہ دیا گیا،،، وہ ہمارے سامنے ہی نہیں تھے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button