معلومات

عدم اعتماد : کہیں اپوزیشن کی مٹھائی قبل از وقت تو نہیں ؟ خلیج اردو کا تجزیہ

خلیج اردو

تحریر : عاطف خان خٹک

ٹیلی ویژن اسکریز اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں اور تجزیوں کا نچوڑ تو بظاہر یہی نکلتا ہے کہ شاید اپوزیشن کو وزیر اعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی کے معرکے میں کامیابی مل چکی ہے۔

 

ہو نہ ہو کہ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کیلئے پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا ہے اور وہ قومی اسمبلی میں اکثریت دکھا کر وزیر اعظم کے کلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت کیلئے تحریک پر سرخرو ہوئے ہیں۔

 

 

اپوزیشن کے جشن کو دوبالا حکومت کے اتحادیوں نے کر دیا ہے ۔ کچھ سامنے سے اور کچھ پس پردہ حمایت کا یقین دلا چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اپوزیشن کیلئے آسان ہے کہ وہ وزیر اعظم کو گھر چلتا کرے؟

 

 

تفصیل میں جانے سے پہلے ہمیں یہ لازمی ذہن نشین کرنا ہوگا کہ حکومت کو فی الحال قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ تو اپوزیشن ہے جس کے کندھوں پر ایک سو باہتر اراکین کی حمایت دکھانے کا بوجھ ہے۔

 

ایک طرف سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس پر لارجر بنچ کی سماعت اور وہاں سے ایسے ریمارکس کا سلسلہ جاری ہے جس سے بظاہر یہ مشکل دکھائی دینے لگا ہے کہ حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی کے ووٹ اپوزیشن کو ڈالے جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ لگ ایسا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کا کوئی بھی ممکنہ فیصلہ یا ابزرویشن حکمران جماعت کے منحرف اراکین کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔

 

ایسے میں اپوزیشن کے عددی اکثریت ثابت کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے جبکہ حکومت کے سب اتحادی اپوزیشن کے ساتھ نہیں ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن کے حمایت یافتہ اراکین کی تعداد ایک سو ستر سے کم ہے جبکہ پورے کرنے ہیں پورے ایک سو باہتر۔۔۔ ایک بھی کم نہیں۔

 

ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیئے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یا ناکامی خواہشات ، مفروضوں اور بیان بازی سے نہیں قومی اسمبلی میں عددی اکلثریت دکھانے سے کامیاب ہوگی اور وہ اکثریت بھی اپوزیشن کو دکھانی ہے۔

 

ایک سو تراسٹھ اراکین کے ساتھ اپوزیشن کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ قرارداد پر ووٹنگ والے دن ان کے اپنے اراکین بھی موجود ہوں اور ان کو مزید اراکین کی حمایت بھی حاصل ہو جو فی الحال اتنا آسان نہیں۔

 

یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ جیسے حکمران جماعت نے کشتی ڈوبتے دیکھ کر پنجاب میں وزارت اعلی ق لیگ کو دھان کر دی ، ویسے کوئی بھی سرپرائیز وفاق میں بھی دی جا سکتی ہے۔ حکومت مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اتحادیوں کو بہت کچھ دے سکتی ہے۔ وزارتیں اور بڑے عہدے دیئے جا سکتے ہیں جبکہ اپوزیشن کے سارے عہدے فی الحال فرضی اس وجہ سے ہیں کہ وہ حکومت میں نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے ختم ہونے کے بعد کی بننے والی کسی ممکنہ حکومت میں ہی کچھ دیا جا سکتا ہے جو کہ اتنا آسان نہیں۔

 

بھیگا ہوا شخص جیسے برسات سے نہین ڈرتا ، ایسے ہی پنجاب کا محاذ ہارنے والی وفاقی حکومت کسی بھی طرح سے مرکزی حکومت کو بچانے تک جائے گی۔ سب سے بڑی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے جو مسائل ہیں ان کا براہ راست تعلق ان معاملات سے ہے جو صرف وفاق سے حل ہو سکتے ہیں اور یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر پی ٹی آئی کے منحرف اراکین کا ووٹ کسی قانونی یا آئینی نقطے کے شکار ہو جاتے ہیں تو ایم کیو ایم کی حمایت کے بغیر اپوزیشن کو کامیابی نہیں مل سکتی،

 

تبدیلی سرکار ایم کیو ایم کو مرکز میں وزارتیں اور کراچی میں انتظامی عہدے کی پیشکش کیوں نہ کرے اگر انہین اپنی کشتی ڈوبتی نظر آئے اور اپوزیشن ایم کیو ایم کو کیا دے سکتی ہے؟ یہ سوال نہ صرف اہم ہے بلکہ اپوزیشن کی مٹھائی کو قبل از وقت بنا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button