معلومات

ذکر اللہ تعالی سے اپنے دل کو سکون سے بھر دیں

خلیج اردو
دبئی : اللہ تعالی تبارک و تعالی نے قرآن پاک کی سورہ 33:41 میں حکم دیا ہے کہ کثرت سے ذکر کیا کرو کیونکہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔

رمضان کے مقدس مہینے میں زیادہ سے زیادہ لوگ اللہ کی یاد میں ذکر کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں، عبادات کرتے ہیں، تصبیح کے دانوں پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ لازمی یہ ہے کہ صرف زبان سے ورد کرنے کے ساتھ ساتھ دل کی گہرائیوں میں بھی محسوس کیا جانا چاہیے۔

مسلم ممالک بالخصوص جی سی سی ممالک میں بزرگ افراد موتیوں کی مالا اٹھائے اللہ کو یاد کرتے نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب آنے والے زائرین ان رنگین مالا کو لیے بغیر کبھی گھر واپس نہیں جاتے۔ اسے مصابحہ یا ہندوستان اور پاکستان میں تسبیح کہا جاتا ہے۔ لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں کے لیے تحفے کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں۔

ذکر کیلئے کوئی وقت مختص نہیں اور کسی بھی وقت کیا جاتا ہے تاہم نماز کے بعد ذکر اگر تواتر کے ساتھ کیا جائے تو یہ اللہ سے رشتے کو اور مضبوط بناتا ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’’تو تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا۔‘‘ (2:152)۔ نیز اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ’’بے شک اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکون ملتا ہے۔‘‘ (رعد 13:28)

ذکر کیلئے کوئی حد نہیں اور یہ بے شمار ہو سکتا ہے لیکن بعض مخصوص اوقات میں کچھ تعداد کا ذکر ہوتا ہے۔ مسلمان اپنی انگلیوں کو گننے کے لیے استعمال کرتے ہیں یا تصبیح یا کاؤنٹر کا استعمال کرتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ تصبیح کو ترجیح دیتے ہیں، خاص طور پر رمضان میں جب ایک آدمی نے ہمارے نبی کے پاس آکر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لیے اسلام کے احکام بہت زیادہ ہیں، آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس سے میں ہمیشہ اپنا لوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ آپ کی زبان پر اللہ تعالی کا ذکر ہمیشہ رہے ۔ (ترمذی اور ابن ماجہ)

اللہ کو یاد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں ہمیں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے ہیں۔ جب ہم سبحان اللہ کہہ کر تسبیح کرتے ہیں ( اللہ کی ذات پاک ہے)، جب ہم الحمدللہ کہہ کر اس کی تعریف کرتے ہیں (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں)، جب ہم اللہ اکبر کہہ کر اس کی بڑائی کرتے ہیں، تو یہ سب ذکر ہے۔ جب ہم استغفر اللہ کہتے ہیں، جب ہم لا حول و لا قوۃ الا باللہ کہتے ہیں (اللہ کے سوا کوئی طاقت اور طاقت نہیں) تو یہ سب ذکر میں شمار ہوتے ہیں۔

اللہ کو ہر وقت یاد رکھنا ہماری نجات اور اپنی بھلائی کے لیے ہے ۔ ہم خلوت اور جلوت میں اللہ کو یاد کرنے والے مردوں اور عورتوں کا تذکرہ خاص طور پر قرآن پاک میں ان لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔

’’اور ان مردوں اور عورتوں کے لیے جو اللہ کے ذکر میں کثرت سے مشغول رہتے ہیں، ان کے لیے اللہ نے بخشش اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔‘‘ (33:35)

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button