سٹوری

آزادی اظہار رائے پر قدغن نامنظور

خلیج اردو

عاطف خان خٹک

ریاست پاکستان کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ اس کا مڈیا غیر موئثر اور سرکاری میڈیا زیرو بٹا زیرو ہے۔ اتنے بڑے لیول پر سیٹ اپ اور وسائل کے ہوتے ہوئے سرکاری میڈیا نہ تو جدت سے اشنا ہے ، نہ جدید دور کے تقاضوں پر توجہ دیتا ہے اور نہ ہی یہ اپنی پریزینٹیشن اور آپریشنل پروسیجرز ٹھیک کر رہا ہے۔

سب سے بڑی خرابی اس ادارے کی یہ ہے کہ اس میں حکومت کا موقف اس درباری انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عام آدمی اس پر اعتبار کرنا تو درکنار دیکھنا تک پسند نہیں کرتا۔ ایک درویش آدمی فواد چوہدری آیا سی اور انہوں نے تبدیلی کی کوشش کی لیکن مافیا نے کامیاب ہونے نہیں دیا۔

سب سے بڑی قدغن تو یہ ہے کہ سرکاری میڈیا اپوزیشن کو کوریج نہیں دیتا۔ پی ٹی آئی دور میں تھوڑی بہت شروع کی تھی مگر پھر معاملہ دیرپاچل نہیں پایا۔ ہر شہری کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ پی ٹی وی اپوزیشن کو کوریج دے۔ بجائے حکومت کا ترجمان میڈیا بننے کے وہ عوام کی ترجمانی کرے۔ اگر آپ یہ نہیں پوچھتے تو آپ بھی برابر کے شریک ہیں میڈیا سنسرشپ میں۔

تاہم ایک چیز ہے کہ تمام میڈیا چینلز کو ذمہ داری کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ سرکاری میڈیا نسبتاً زیادہ ذمہ دار ہے۔ یہ تمام میڈیا چینلز کیلیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ لائیو نشریات کو ڈیلے سسٹم کے تحت چلائے تاکہ کوئی نادانستہ طور پر سرزد ہونے والی غلطی ان ایئر نہ جائے۔

موجودہ حالات میں اس ڈیلے سسٹم کی بار بار ایڈوائزری جاری ہوتی ہے۔ اگر میڈیا ہاوسز اس کی پاسداری نہیں کریں گے تو ہم کبھی بھی ذمہ دار میڈیا پیدا نہیں کر پائیں گے۔ ضد اور بدمعاشی چھوڑ کر ایڈیٹیوریل پالیسی تگڑی اور انفارمیشن کنٹرول گیٹس کو ایکٹیو کرنا ہوگا۔ بے شک جو شہباز گل کے ساتھ ہوا یہ نہ ہوتا اگر اے آر وائے بروقت ان کو بیچ میں میوٹ کرتا۔

میرا اندازہ ہے کہ شہباز گل کا بیان کسی بھی صورت جسٹفائی تو نہیں ہوتا لیکن وہ ایک فلوئنٹ وے میں نکلے الفاظ تھے کہ جن کے پیچھے نہ شاید کوئی ٹرانسکرپٹ تھا اور نہ ہی بدنیتی تھی۔ یہ غلطی یا بلنڈر اے آر وائے کا تھا۔

آج بھی بول اور اے آر وائے کی بندش اس بدمعاشی کی وجہ سے ہے کہ بے جا میں وہ بضد ہیں کہ وہ ڈیلے سسٹم ایکٹیو نہیں کریں گے۔ نتیجے میں کوئی اگر غلطی بھی کرتا ہے تو وہ سنسر ہونے کے بجائے عوام تک ڈائریکٹ پہنچتی ہے جس سے متعلقہ شخص بھی مصیبت میں آتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button