سٹوری

یہ مسئلہ بھی ہے حل ہونے کا منتظر۔ بیوہ خواتین معاشرے میں نظر انداز ہونے والے طبقے میں شمار ہیں ان کے مسائل کا اندازہ لگانا ناممکن ہے

کالم نگار فیض عالم
کراچی پاکستان
بیوہ خواتین معاشرے میں نظر انداز ہونے والے طبقے میں شمار ہیں ان کے مسائل کا اندازہ لگانا ناممکن ہے خاص طور پر نچلے اور درمیانے طبقے میں ۔۔۔ طلاق یافتہ خواتین کے لیے تو اب آواز اٹھنے لگی ہے مگر 18 سے لے کر 40 سال تک کی بیوہ خواتین اس وقت ہمارے معاشرے میں شدید دقیانوسی اور فرسودہ سوچ کا شکار ہیں۔ ان خواتین کے لیے کہا جاتا ہے کہ بس اب اپنے بچوں پر زندگی گزار دےگی ۔۔۔ اگر سسرال اور میکہ کی طرف سے سپورٹ نہ ملے تو یہ بیوہ عورت اپنے بچوں کی روزی روٹی کے لیے خود باہر نکلتی ہے۔۔۔ کچھ کہتے ہیں کہ صرف راشن اور چند پیسوں کا ہی مسئلہ ہے نہ؟…. مطلب کیا بیوہ عورت کا شوہر اپنے ساتھ اس کا دل بھی نکال کے لے گیا ؟

اب اس عورت کا زندگی پر کوئی حق نہیں ۔۔۔ ہے تو بس اتنا کہ ساری زندگی اپنے اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پریشان ہوتی رہے۔بیوہ خواتین کی دوسری شادی کرنے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔
پہلی رکاوٹ بڈھی رشتہ دار عورتیں جو بیوہ عورت کو دوسری شادی کرنے نہیں دیتیں اگر وہ کر بھی لے تو اسے کہا جاتا ہے کہ شرم نہیں آئی تمہیں۔۔تمہارا شوہر تم سے بہت محبت کرتا تھا۔یعنی اگر جوان بیوہ دوسری شادی کا سوچے تو یہ اس کے کردار کی خرابی ہے ۔۔۔

دوسری رکاوٹ مردوں کے گھر کی خواتین جو مرد کو 18 سالہ دوشیزہ کے سپنے دیکھاتی رہتی ہیں ۔۔۔ اپنے 50 سالہ گنجے بیٹے کے لیے بھی کسی بیوہ عورت کا رشتہ قبول کرنا شان کے خلاف سمجھتی ہیں ۔۔ پھر کچھ مردوں کی فرسودہ اور دبی ہوئی ذہنیت۔۔۔۔ بیوہ کے ساتھ ۔۔۔بچے کون پالے گا ؟ اپنے بچے ماں کے ہاں رکھے تو راضی ورنہ نہیں ۔۔۔۔

ایک نامی گرامی عالم جو اب میری نظر میں عالم دین کہلانے کے لائق نہیں ہیں۔۔۔انہیں ایک تقریر میں فرماتے سنا کہ دیکھو بھائی بیوہ عورت سے شادی کرو لیکن اس کے بچوں کی ذمہ داری نہ لو کسی اور کہ بچے کو اپنا بچہ سمجھنا بہت مشکل کام ہے بولو بھائی ۔۔۔ کسی بیوہ کے بچوں کو اپنا بچہ سمجھنے کی غلطی نہ کر بیٹھنا ۔۔۔ دل تو چاہا کہ ان سے پوچھوں اگر آپ اس ممبر پر بیٹھے بیٹھے لوڑھک گئے اور آپ کی جوان بیوہ بچوں کے ساتھ سائبان حاصل کرنے کے لئے کسی دوسرے مرد سے شادی کرنا چاہے اور کوئی مرد آپ کے بچوں کو قبول نہ کرے اور آپ کے بچے زمانے میں رل جائیں (اللہ نہ کرے) تو آپ کے لیے یہ منظر کیسا ہوگا ۔۔۔۔ جب خود کو عالم دین کہلانے والے ممبر پر بیٹھ کر مردوں کو یہ درس دینگے تو کون کرے گا بیوہ عورت سے شادی ۔۔۔

میں یہاں ایک بات واضح کروں ۔۔۔ جوان اور مجبور بیوہ خواتین کی شادی کی بات ہو رہی ہے اگر کوئی عورت دوبارہ شادی نہ کرنا چاہے تو کوئی زبردستی نہیں ۔۔۔ لیکن میرے تجربے اور مشاہدے کے مطابق مڈل کلاس میں تقریباً 90 فیصد جوان بیوہ خواتین سائبان اور مضبوط سہارا حاصل کرنے کے لیے دوسری شادی کرنا چاہتی ہیں مگر معاشرے کی اس ہندوانہ سوچ کی وجہ سے شادی نہیں کر پاتیں۔۔

مسلمان مردوں اور پرانے زمانے کی سوچ والی خواتین سے گزارش ہے کہ صحابیات رضی اللہ تعالی عنہا جو بیوہ ہو جایا کرتی تھیں ان سے کئی دیگر صحابہ رضوان علیہم اجمعین نے شادیاں کیں اس معاملے میں اسلام نے قلی طور پر عورت کو دوسری شادی کرنے کا حق دیا ہے پھر ہم کون ہوتے ہیں ان سے یہ حق چھینے والے ؟

بیوہ خواتین کو معاشرے کا مثبت حصہ بنائیے انہیں گھوٹ گھوٹ کر جینے اور مدر ٹریسا بننے پر مجبور نہ کریں ۔۔۔ان خواتین کے بچے بچپن کی شدید محرومیوں کے باعث باقی ساری عمر ذہنی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔کسی یتیم کی کفالت دین اسلام میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، کفالت صرف پیسے سے نہیں ہوتی اگر مناسب بندوبست ہو تو یتیموں کو والد کی حیثیت سے قبول کریں۔ میں نے کچھ میٹرمونیل گروپس میں دیکھا 50 سے زائد سالہ مردوں کے لیے بھی 30 سے 40 سالہ کنواری چاہیے کیوں کہ لڑکا اچھا کماتا ہے۔ رہائش اچھی ہے ۔۔۔

تو کیا اسے لوگ جوان بیوہ عورت سے شادی نہیں کر سکتے ۔میں نے ایسی خواتین بھی دیکھی ہیں جو تہجدگزار ہیں دین اسلام کی تبلیغ میں پیش پیش مگر جب بیٹے یا بھائی کے لیے رشتہ ڈھونڈنے لگتی ہیں تو سارا اسلام ایک طرف رکھ دیتی ہیں۔۔ یہاں میرا جسم میری مرضی والی آنٹیوں سے بھی ایک گزارش ہے اگر فتنے پھیلانے سے فرصت نصیب ہو جائے تو خواتین کے ان مسائل پر توجہ دیں جو معاشرے میں حقیقتاً ایک عورت فیس کر رہی ہے، مغرب سے بھیک میں ملنے والے حقوق کے تصور سے اگر کبھی چھٹکارا ملے تو ان حقوق کی بات کریں جو اسلام نے عورت کو دیئے ہیں۔

ایک عورت اپنی مرضی سے طلاق لے سکتی ہے لیکن کوئی بھی عورت اپنی مرضی سے بیوہ ہونا نہیں چاہتی۔ صرف باتیں بگھارنے سے بدلاؤ نہیں آئے گا ہمت کریں معاشرے میں چند مثالیں بھی نظر میں آجائیں گی تو لوگوں کا ذہن خود بخود بننا شروع ہو گا۔ آپ خود نہیں کر سکتے تو بیوہ خواتین کے لیے رشتے ڈھونڈنے میں ان کے گھر والوں کی مدد کریں۔ کسی بھی طرح معاشرے میں اس بات کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں کہ ایک بیوہ عورت فرشتہ نہیں ہوتی اس کی بھی ضروریات اور خواہشات ہوتی ہیں اور یتیم بچوں کی ضرورت صرف کفالت نہیں بلکہ انہیں والد جیسی شفقت ، حفاظت و راہنمائی بھی درکار ہے۔

وما علینا الا البلاغ

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button