متحدہ عرب امارات

کیا آپ ڈیلوری کمپنیوں سےمطمئن ہیں؟ ڈیلوری رائیڈرز اور انلائن اشیاء فروخت کرنے والوں کیلئے نیا ایوارڈ سسٹم متعارف

خلیج اردو

دبئی : دبئی میں ایک نئے ایوارڈ کا اعلان کیا گیا ہے جو بہترین ڈیلوری رائیڈرز کی خدمات کا اعتراف کرنے کیلیے ہے۔ مختلف کمپنیوں کے اشیاء کو صارفین تک پہنچانے والے ان ڈرائیورز کا دیکھا جائے گا کہ انہوں نے ٹریفک قوانین کی کتنی پاسداری کی ہے۔

 

ایوارڈ کا ایک مقصد صارفین کو خدمات فراہم کرنے میں ان کے اطمینان کی سطح کو بڑھانا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

 

روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی آرٹی اے کے اس ایگزیکٹیو کیٹگری کے ایوارڈ کے دو زمرے ہیں۔ پہلا مقصد ان کمپنیوں کا اعتراف کرنا ہے جن کی ڈیلوری سروس بہترین ہے جبکہ دوسرے نمبر پر وہ دس بہترین ڈرائیور جنہوں نے ڈیلوری خدمات میں بہتری فراہم کی۔

 

روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کہا کہ وہ سائیکل سواروں اور سڑک استعمال کرنے والوں کیلئے ٹریفک کی حفاظت اور ڈیلیوری سروسز کی مارکیٹ کو ہموار کرنے بارے پرعزم ہے۔

 

اس ایوارڈ سے تمام ڈیلیوری کمپنیوں کے درمیان مسابقتی ماحول کو فروغ ملے گا۔ کسٹمر سروس کے معیار اور بہترین طریقوں میں اضافہ اور ٹریفک کی حفاظت کی سطح کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

 

بہترین کمپنی یا فہرست بنانے کا فیصلہ صحت، حفاظت، ماحولیات اور معیار کے معیارات کی تعمیل پر کیا جائے گا۔ آر ٹی اے کے تقاضوں اور اعلیٰ بین الاقوامی طریقوں کی پاسداری لازمی ہوگی۔  جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل تربیت کے استعمال کا عہد اور صارفین کی اطمینان کی درجہ بندی کو بہتر بنانا اولین شرائط ہیں۔

 

بہترین رائیڈرز کے انتخاب کے معیار میں شکایات، جرائم اور حادثات کے حوالے سے صاف ریکارڈ شامل ہے۔

 

جب کرونا وائرس کی وباء پھیلی تو صارفین اور کمپنیوں کے درمیان لین دین کا زیادہ تر انحصار انلائن کاروبار پر ہوا۔ اس سے ڈیلوری رائیڈرز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

 

آر ٹی اے نے ڈیلیوری سروس کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک ہدایت نامہ شائع کیا تھا۔ اس نے موٹرسائیکلوں اور ڈرائیوروں کو رجسٹر کرنے اور لائسنس دینے کیلئے وضاحت اور شرائط طے کیں تھیں جن میں موٹر سائیکلوں کی جامع انشورنس شامل ہے۔

 

آر ٹی اے نے 10 ہزار ڈرائیور کی تربیت کی اور ان کو لائنسس جاری کیے۔ انہیں شرائط اور ذمہ داروں سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ کہ جب وہ موٹرسائیکل چلاتے ہوں تو کن امور کا خیال رکھیں۔ خاص طور پر رفتار کی حد کا خیال رکھنا اور تیز لین میں گاڑی چلانے سے گریز کرنا ان ہدایات میں شامل تھا۔

 

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button