متحدہ عرب امارات

کیسز میں اضافہ ہونے کے بعد پاکستان نے کرونا وائرس سے متعلق گائیڈ لائنز کا دوبارہ سے نفاذ کر دیا

خلیج اردو
دبئی: ملک میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوتے ہی پاکستان نے بدھ کے روز کرونا کے پھلاؤ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر کا دوبارہ نفاذ کیا ہے۔ اس حوالے سے ملک میں انسداد کرونا سنٹر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے اس حوالے سے ایک اعلامیہ میڈیا کو جاری کیا ہے۔

این سی او سی دراصل پاکستان میں انسداد کرونا سے متعلق کوششوں، پالیسیوں اور عمل درآمد کا ادارہ ہے اور وزیر اعظم کی قومی رابطہ کمیٹی کو کرونا کے قومی ردعمل سے متعلق بروقت اقدامات کیلئے تجاویز پیش کرتا ہے۔

خلیج ٹائمز نے جیو نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز پر وزیر اعظم نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے کورونا وائرس رسپانس فورم کو بحال کرنے کے لیے این سی او سی اجلاس کی صدارت کی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

این سی او سی نے مارچ کے آخر میں دو سال تک آپریشنز چلانے اور کرونا پر پاکستان کے ردعمل کی قیادت کرنے کے بعد کام کرنا بند کر تے ہوئے ذمہ داری نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے حوالے کر دیے تھے۔

پاکستان میں روزانہ کرونا کیسز کی تعداد تین ماہ میں پہلی بار 500 کے ہندسے کو عبور کرنے کے بعد این سی او سی کو بحال کیا گیا تھا۔ اس بیماری کے حالیہ ملک بھر میں پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ دیکھنا میں آتا ہے۔

541 نئے کرونا مثبت کیسز سے پاکستان کے مثبت تناسب کو دوبارہ 3 فیصد سے اوپر دھکیل دیا گیا ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار کے مطابق، 15,462 نمونوں پر ملک بھر میں تشخیصی جانچ کے بعد نئے کیسز کا پتہ چلا۔

انتہائی نگہداشت میں زیر علاج مریضوں کی تعداد بھی 100 تک پہنچ گئی جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کوویڈ 19 سے متاثرہ ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔

وائرس سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 30,392 اور ایکٹیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 5,269 ہوگئی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ عوام کو اس وقت تک ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا جب تک کہ کورونا وائرس کا سدباب نہیں ہوتا۔

انہوں نے مذہبی اجتماعات کے لیے حکمت عملی پر غور کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نےکرونا ٹیسٹنگ میں اضافہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے کیونکہ اب تک صرف ان لوگوں کا ٹیسٹ کیا جا رہا تھا جن کو وائرس کی علامات تھیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت اگلے ایک یا دو ماہ میں 5 سے 12 سال کی عمر کے بچوں کو حفاظتی ویکسین پلانا اور بوسٹر شاٹس کی مہم دوبارہ شروع کررہی ہے۔

Source: Khaleej times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button