خلیجی خبریںمتحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں ایک پاکستانی تنظیم ضرورت مند باشندوں کو مفت طبی امداد فراہم کرنے میں پیش پیش

خلیج اردو: دبئی میں پاکستان میڈیکل سینٹر نے ہزاروں مریضوں کو مفت طبی امداد فراہم کر کے ان کی مدد کی ہے۔

مرکز کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر نسیم صابر نے کہا کہ اکتوبر 2020 میں مرکز کے کھلنے کے بعد سے تقریباً 2,500 لوگوں نے یہاں کا دورہ کیا ہے اور اکثریت کو مفت طبی امداد ملی جبکہ دیگر کو رعایت دی گئی۔

20 ملین درہم سے چلنے والا غیر منافع بخش صحت کی دیکھ بھال کے مرکز کی نگرانی پاکستان ایسوسی ایشن دبئی کرتی ہے جو سب کے لیے کھلا ہے۔

دبئی میں 39 سالہ سنگل ماں شگفتہ نسرین نے اپنے 14 سالہ بیٹے غازی کے لیے سہولت سنٹر سے مدد مانگی جسے ٹائپ 1 ذیابیطس ہے، وہاں اس کے مفت ٹسٹ ہوئے اور مرکز اب اس کے گھر دوا اور انسولین پہنچاتا ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

محترمہ نسرین نے کہا، جو اپنے گھر سے کیٹرنگ کے ایک چھوٹے سے کاروبار سے ماہانہ تقریباً 700 درہم کماتی ہیں کہ "یہ سب کچھ اپنے طور پر برداشت کرنا واقعی مشکل تھا،” ۔

"تمام ٹیسٹوں، دوائیوں اور انسولین کی قیمت ہزاروں درہم میں آ رہی تھی۔ میں تو ماہانہ 1,000درہم بھی نہیں کماتی ہوں۔ میں ان اخراجات کو کیسے پورا کرتی؟ ہماری مدد کرنے کے لیے ہم پاکستان میڈیکل سینٹر کے بہت مشکور ہیں۔

دبئی کی رہائشی 65 سالہ نگہت فاروقی نے بھی مرکز سے رابطہ کیا۔ اوسٹیوآرتھرائٹس اور تھائرائیڈ کے مسائل میں مبتلا، محترمہ فاروقی کے کئی چیک اپ اور ٹیسٹ ہوئے، اور انہیں دوا دی گئی، جس میں ایک انجکشن بھی شامل ہے جو انہیں ہر چھ ماہ بعد لگانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اوسٹیو ارتھرائٹس کی وجہ سے ناقابل برداشت درد ہوتا ہے۔ جس سے میری ہڈیوں اور پٹھوں میں بہت درد ہوتا ہے، اور میرے لئے حرکت کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

محترمہ فاروقی ایک بیوہ ہیں وہ 40 سال قبل متحدہ عرب امارات منتقل ہوئیں۔

انہوں نے ریٹائر ہونے سے پہلے کئی دہائیوں تک بطور ٹیچر کام کیا۔ ان کی بیٹی نے بھی ان کا ساتھ دیا، لیکن وہ ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل ہوابازی کے شعبے میں ملی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھی۔

محترمہ فاروقی نے کہا، "ہم کسی طرح کھانے کے لیے رقم کا بندوبست کر لیتے ہیں، لیکن باقی کاموں کیلئے ناقابل یقین حد تک مشکل درپیش آتی ہے۔

اس مرکز کو دبئی میں افراد اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مدد حاصل ہے اور اس نے پرائیویٹ ہسپتالوں، جیسے میڈی کلینک مڈل ایسٹ اور امریکن ہسپتال کے ساتھ بھی شراکت داری بھی کی ہے۔

ڈاکٹر صابر نے کہا، "پاکستان میڈیکل سینٹر ایک ملٹی اسپیشلٹی پولی کلینک ہے جو پیڈیاٹرکس، ڈینٹل، خواتین کی صحت، کارڈیالوجی، آرتھوپیڈکس، فزیوتھراپی سمیت بہت سی دیگر خدمات پیش کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ”ہم اپنے مریضوں کو بھی آگہی بھی فراہم کرتے ہیں اور انہیں ان کے طرز زندگی کو منظم کرنے اور بیماری سے بچاؤ کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں۔”

یہ مرکز شدید اور دائمی طبی مسائل میں مبتلا مریضوں کا علاج کرتا ہے اور ان لوگوں کے لیے حوالہ فراہم کرتا ہے جنہیں مزید علاج کی ضرورت ہو۔

ڈاکٹر صابر، جو ایک پیتھالوجسٹ اور مائیکرو بایولوجسٹ ہیں، نے کہا کہ، "جو مریض [ادائیگی کرنے سے] قاصر ہیں ان کا مفت علاج کیا جاتا ہے اور ان میں کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا ہے۔

"ہمارے پاس ایک بہت شفاف فلاحی عمل ہے اور ایک ویلفیئر آفیسر ہر وقت ہمارے احاطے میں موجود ہوتا ہے جو مریض کی مالی حالت کا جائزہ لیتا ہے اور مدد فراہم کرتا ہے

انہوں نے کہا کہ”فیصلے صرف اور صرف انسانی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں اور ہم اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کوئی مستحق مریض واپس نہ جائے۔ یہ منصوبہ پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے رواداری کا ایک نمونہ ہے اور متحدہ عرب امارات کی حکومت کے رواداری اور شمولیت کے وژن کے مطابق ہے۔

اود مہتا میں واقع، مرکز سے 04 337 3632 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button