متحدہ عرب امارات

ٹریفک حادثے کے بعد جائے حادثہ سے فرار نہ ہوں، دبئی کے چیف ٹریفک پراسیکیوٹر کی ڈرائیوروں کو وارننگ

 

خلیج اردو آن لائن:

دبئی پولیس کی جانب سے موٹر سواروں کو کسی حادثے کا باعث بننے اور پھر متاثرہ فریق کو مدد فراہم کیے بغیر یا اپنی معلومات دیئے بغیر جائے حادثہ سے فرار ہونے سے متعلق وارننگ جاری کی گئی ہے۔

دبئی کے چیف ٹریفک پراسیکیوٹر اور دبئی ٹریفک پبلک پراسیکیوشن کے سربراہ پراسیکیوٹر جنرل صلاح بو فروشہ ال فیلسی نے کہا کہ ہٹ اینڈ رن بنیادی طور پر ایک غلط فعل ہے ، لیکن اگر کوئی حادثے کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہو جائے تو یہ جرم بن سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

ال فیلسی نے پیر کے روز دبئی کمیونٹی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے منعقد کی گئی وریچوئل کانفرنس کے دوران کہا "ٹریفک قوانین کی کچھ خلاف ورزیاں جرم تصور کی جا سکتی ہیں، جیسا کہ ہٹ اینڈ رن۔ متحدہ عرب امارات کے ٹریفک لاء کے مطابق اگر حادثے میں کوئی ہلاک ہوتا ہے، زخمی ہوتا ہے یا پراپرٹی کو نقصان پہنچتا ہے اس جرم کی سزا قید یا جرمانہ ہے، جرمانہ 20 ہزار درہم سے شروع ہوتا ہے”۔

انہوں نے مزید بتایا "اگر کوئی ڈرائیور کسی حادثے میں ملوث ہوتا ہے تو اسے ایک غلطی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تاہم، اگر ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار ہو جاتا ہے تو پھر اسے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

تاہم، انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے معمولی حادثات جن میں کوئی زخمی نہ ہوا ہو یا پراپرٹی کو نقصان نہ پہنچا ہو میں ملوث ڈرائیوروں کو چاہیے کہ گاڑی کو محفوظ مقام پر کھڑی کر کے پولیس کو اطلاع دیں۔

ال فیلسی نے بتایا کہ "قانون میں ڈرائیور کو حادثے کی اطلاع دینے کے لیے 6 گھنٹوں کو وقت دیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شیخ زید جیسی مصروف سڑک پر حادثہ ہوتا ہے تو ٹریفک جام سے بچنے کے لیے گاڑی کو محفوظ مقام پر لیجانا ہوگا”۔

انہوں نے بتایا کہ دبئی میں جن حادثات کی وجہ 18 سال سے 35 سالہ ڈرائیور بنتے ہیں ان حادثات میں عام طور پر افراد یا تو زخمی ہوتے ہیں یا ہلاک ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان حادثات کی بڑی وجہ سے تیز رفتاری، دوران ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال اور سامنے والی گاڑی سے مناسب فاصلہ نہ رکھنا ہے۔

مزید برآں، انہوں نے ڈرائیوروں کو ہدایت کی کہ وہ تھکن۔ نیند اور نشے کی حالت میں ڈرائیونگ کرنے سے پرپیز کریں۔ کیونکہ اس سے خوفناک حادثے کی امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button