دبئی(خلیج اردو): آج کے دور میں سوشل میڈیا کا استعمال عام ہے اور یہ انسانی زندگی میں بہت اہم کردار اداکررہا ہے۔ ہم روزمرہ کی سرگرمیاں ، معلومات اور اپنی سوچ کا اظہار پوسٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔ اگر کہا جائے کہ سوشل میڈیا اطلاعات کا ایک بڑا ذریئعہ ہے تو غلط نہیں ہوگا۔
تاہم جہاں سوشل میڈیا کا استعمال اتنا کارگر اور مفید ہے وہاں یہ ہمیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا احساس بھی دیتا ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال سماجی، معاشرتی اور قانونی لحاظ سے ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے تو یہ نہ صرف انسان کی اپنی شخصیت کیلئے بلکہ معاشرے کیلئے بھی سودمند ثابت ہوتا ہے۔
کبھی کبھی ہماری انلائن سرگرمیوں کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں اگر ہم قوانین اور واعد وضوابط کا خیال نہ رکھیں ۔ گزشتہ سال ایک بھارتی شہری کو متحدہ عرب امارات سے ڈی پورٹ اور 250000 جرمانہ عائد کیا گیاکیونکہ اس کا جرم اپنے سابق ارباب کے خلاف قابل نفرت مواد فیس بک پر شیئر کرنا تھا۔
ایک خاتون کی تصویر جو آپ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں اور اس میں خاتون کی رضامندی شامل نہ ہو، آپ کیلئے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔ (جاری ہے )
ہم کچھ قواعدوضوابط کا یہاں ذکر کریں گے جن کی پاسداری کرنا آپ پر لازم ہے اور ایسا کرنے سے آپ کا ذمہ داری سوشل میڈیا استعمال کنندہ بن سکتے ہیں۔
1۔ کسی کی تصاویر اس کی اجازت کے بغیر پوسٹ نہ کریں
ایسا ممکن ہے کہ آپ اچھی نیت سے پبلک مقامات پر عوام کی تصویریں بناتے ہوں اور شاید یہ آپ کا مشغلہ بھی ہو لیکن یہ ایک سنگین جرم ہے۔ وفاقی قانون 2015کے سیکشن 5 کے آرٹیکل 21 کے مطابق کسی کی تصویریں اس کی اجازت کے بغیر بنانا ایک سنگین جرم ہے اور ایسا کرنے والے کو 6 ماہ کی جیل اور 1500000 درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
2۔ لوگوں کی نجی زندگی میں مداخلت نہ دیجیئے
لوگوں کی ذاتی معلومات یا خفیہ باتیں اور کچھ بھی ایسا جو وہ پبلک نہ کرنا چاہتا ہو۔ اگر آپ نے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو آپ قانون کے شکنجے میں آئیں گے۔ سائبر کرائم کے وفاقی قانون کے سیکشن پانچ کے آرٹیکل 4 کے مطابق کسی شخس یا کمپنی کی خفیہ معلومات پبلک کرنے کے جرم کی سزا عارضی قید یاکماز کم جرمانہ 250000 درہم اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ 1 اعشاریہ 5 بلین درہم ہو سکتا ہے۔
3۔ افواہیں اور سنسنی پھیلانے سے باز رہیں
کسی شخص یا کمپنی کے بارے میں غلط معلومات پھیلانا یا افواہیں پھیلانا آپ کو 6 ماہ جیل اور 250000 درہم جرمانے کی سزا دے گا۔ کسی کو بدنام کرنے یا ذاتی حملے کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔
4۔ غیر قانونی انلائن ذرائع استعمال نہ کریں
متحدہ عرب امارات میں بلاک کی گئیں اپلیکیشن کا استعمال جرم ہے۔ جیسے وائس اوور انٹرنیٹ پروٹوکول یا وی او آئی پی جیسے اسکائپ کا استعمال یو اے ای میں ممنوع ہے۔ سائبر کرائم کے قوانین کے آرٹیکل 34 کے مطابق ممنوع ذرائع ابلاغ یا مواصلات یا اطلاعات کا استعمال قانونی جرم ہے۔ کسی بھی قانونی اجازت کے بغیر ویڈیو یا آڈیو کی برڈکاسٹنگ ایک جرم ہے اور ایسا کرنے والے کو 1 سال جیل اور 250000تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔کیونکہ قانونی کالنک سرورس موجود ہے جو اتصالات نے دیا ہے۔
5۔ اسلامی اقدار اور شعائر کے خلاف مواد شیئر نہ کیجئے۔
ایسا مواد جو اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کے خلاف ہو یا اس سے کسی بھی مسلمان کے جذبات مجروح ہونے کا خطرہ ہو یا توہین مذہب اسلام کے زمرے میں آتا ہو اسے شیئر کرنا سنگین ترین جرم ہے۔ قانون کے آرٹیکل 17 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے کو جیل اور کم از کم جرمانہ 250000 درہم اور زیادہ سے زیادہ 500000 درہم جرمانہ ہو گا۔
اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر فحاشی پھیلانا ، انسانی سمگلنگ کیلئے انٹرنیٹ استعمال کرنا، نسل پرستی اور نفرت کو ہوا دینا ، قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والا مواد شیئر کرنا ، اجازت کے بغیر خیرات اکھٹا کرنا اور متحدہ عرب امارات کی معزز قائدین اور رہنماؤں کی توہین کرنا یا شخصیات کو نقصان پہنچانا سنگین ترین جرم ہے جس کی سزائیں جیل اور جرمانہ کی صورت میں ادا کرنا ہوتا ہے۔







