متحدہ عرب امارات

ہونہار اور باشعور شہریوں کی قابلیت پر ابحصار کرکے متحدہ عرب امارات اگلے 50 سالوں کیلئے تیاری کررہا ہے

خلیج اردو
16 دسمبر 2020
ابوظبہی: متحدہ عرب امارات کی شاندار ترقی اور خوشحالی کا تو ہر کوئی معترف ہے لیکن یو اے ای کی قیادت ان کامیابیوں کو ناکافی سمجھتے ہوئے 50 سال آگے کا سوچ رہی ہے۔

دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدرط و وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم نے کہا ہے کہ اپنے قابل شہریوں کی بدولت اگلے 50 سالوں کی ترقی کیلئے تیاریاں کررہے ہیں۔

"گورنمنٹ ڈیزائن انیشی ایٹو” میں شامل "سی ای اوز آف گورنمنٹ ڈیزائن” کی پہلی بیچ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات باصلاحیت افراد کے نظریات پر مبنی ایک طویل المیعاد وژن کے ذریعہ حکومتی عملی تصورات اور طریقوں کی نئی تعریف کررہی ہے۔ ہمیں اماراتی عوام کے جوش و جزبے پر فخر ہے کہ وہ اپنی قوم کے مستقبل کو جدید آلات اور ممتاز نظریات کی شکل دیتے ہوئے ترقیاتی عمل کو جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے غیر روایتی ایکشن ماڈل کو اپنایا ہے جو مستقبل کے ڈیزائن پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مستقبل کے اہداف کے حصول کو ممکن بنائیں گے۔ ہمارا مقصد حکومتی ڈیزائن کے ماہرین کی نسلوں کو مستقبل اور اس کے چیلنجوں کے بارے میں نظریات پیدا کرنے کیلئے تیار کرنا ہے اور جامع حل کو تلاش کرنا جو حکومت کو آگے بڑھانے میں معاون ہو۔

پام ووڈ دبئی کے تعاون سے متحدہ عرب امارات کی حکومت کے زیر اہتمام یہ اقدام "دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے جو حکومتی عمل میں ڈیزائن کے اصولوں کو مربوط کرنے اور انفرادی تجربات اور معاشرتی شراکت داری پر مبنی ایک جامع ڈیزائن سسٹم کے قیام پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ جس کا مقصد وفاقی اور مقامی حکام سے باصلاحیت شہریوں کی ایسی تربیت کرنا ہے جو انسانی ترقی پر مبنی ڈیزائن تصورات کو مربوط کرنے کے قابل ہیں۔ اور اس حکومتی اقدامات میں آسانی ہو۔

گورنمنٹ ڈیزائن انیشی ایٹو کا مقصد ملازمین کی صلاحیتوں کو بڑھانا ، ان کے ڈیزائن کی مہارت کو بڑھانا ، اور انہیں نئے ٹولز کے استعمال کی تربیت دینا ہے تاکہ وہ تحقیق ، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور برادری کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے جدید حل پیدا کرسکیں ۔ اس کے علاوہ سرکاری ایکشن ماڈل تیار اور روایتی طریقہ کار کو بدلنا بھی اس پروگرام کے مقاصد میں شامل ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button