Uncategorized

اب زیادتی کرنے والوں کے مقدمات کا ٹرائل تیزی سے ہوگا، پاکستان نے نیا قانون پاس کر دیا

خلیج اردو
16 دسمبر 2020
اسلام آباد: صدرپاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے منگل کے نیا قانون جاری کیا جس میں خواتین یا بچوں کے ساتھ زیادتی کے الزامات نامزد ملزمان کے مقدمات کی سماعت جلد از جلد انجام دینے کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام کی سفارش کی گئی تھی۔ اس اقدام کا انسانی حقوق کے کارکنوں کے ذریعہ تعریف کیا گیا تھا۔

اس قانون میں جس کی بعد میں پارلیمنٹ سے توثیق ہوگی، عدالتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مبینہ زیادتیوں کے مقدمات کا خاتمہ کرے اور چار ماہ کے اندر فیصلے جاری کرے۔ ٹویٹر پر صدر عارف علوی کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئے قانون میں عصمت دری کے شکار افراد کی شناخت ظاہر کرنے پر بھی پابندی ہے۔

ممتاز پاکستانی انگریزی اخبار ڈان نے خبر دی ہے کہ نئے قانون کے تحت کوئی بھی عہدیدار جو عصمت دری کے واقعات کی تحقیقات میں کوتاہی کا مظاہرہ کرتا ہے اسے تین سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ اس مقالے میں یہ بھی اطلاع دی گئی ہے کہ بار بار زیادتی کرنے والوں پر کیمائی ہتھیار کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔

یہ قانون اس کے بعد جاری ہوا جب وزیر اعظم عمران خان نے عصمت دری کے شکار افراد کیلئے جلد انصاف کو یقینی بنانےکیلئے موجودہ قوانین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ قانون 120 دنوں کیلئے ہے جس کی پارلیمنٹ سے ان دنوں کے اندر ثوثیق دی جانی ہے۔

نئے قانون سے پہلے عصمت دری کے مقدمات برسوں تک کھینچے جاتے تھے جس کی بنیادی وجہ غلط تحقیقات اور ناقص قوانین ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ افراد کو اپنی مشکلات بتانے کیلئے آگے بڑھکر آنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کا مرتکب ملزمان کو پاکستان میں ممکنہ طور پر موت کی سزا دی جا سکتی ہے۔

ستمبر میں پنجاب کے مشرقی شہر لاہور کے قریب ایک ویران شاہراہ پر دو حملہ آوروں نے جب ایک عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے جنسی زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسیوں یا سرجری کے ذریعے انہیں نامرد بنانے کے قانون لانے کا اشارہ کیا تھا۔ مذکورہ واقعے نے پاکستان کو حیرت میں مبتلا کردیا حالانکہ اس انتہائی قدامت پسند مسلم ملک میں خواتین پر مختلف طرح کے حملے عام ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال محبت اور شادی کے قدامت پسند اصولوں کی خلاف ورزی کے الزام میں نام نہاد "غیرت کے نام پر قتل” میں تقریبا ایک ہزار خواتین کو قتل کیا جاتا ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button