عالمی خبریں

مودی سرکار نے کشمیر پریس کلب کی رجسٹریشن منسوخ کر دی اور کلب کی عمارت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دی۔

خلیج اردو: مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ نے صحافت کا گلا گھوٹنے کیلئے آج مقبوضہ علاقے میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم کشمیر پریس کلب کی رجسٹریشن منسوخ کرکے کلب کی عمارت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دی ہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق قابض انتظامیہ کے ایک ترجمان نے صحافیوں کے مختلف گروپوں کے درمیان پیش آنے والے خودساختہ غیرخوشگوار واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ کشمیر پریس کلب کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے علاوہ کلب کی عمارت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے- انہوں نے کہا کہ کشمیر پریس کلب کا ایک رجسٹرتنظیم کے طور پر وجود ختم ہو گیاہے اور اس کا انتظامی باڈی بھی قانونی طور پر گزشتہ سال 14 جولائی کو اپنی آئینی مدت کی تکمیل پر ختم ہوگئی تھی۔

قابض حکام کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب کشمیر پریس کلب کے سابقہ منتخب اراکان نے 15 فروری کو نئے انتخابات کا اعلان کیا ہے ۔ کشمیر پریس کلب کے سابق صدر شجاع الحق نے کہا ہے کہ گزشتہ سال کلب کو نئے قوانین کے تحت دوبارہ رجسٹریشن کرانے کے نوٹس دینے کے بعد انتخابات میں تاخیر ہوئی تھی۔

پریس کلب آف انڈیا، ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا اور ممبئی پریس کلب سمیت متعدد صحافتی تنظیموں اور کشمیری رہنمائوں بشمول نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے قابض انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اس اقدام کو ریاستی سرپرستی میں بغاوت قرار دیا ہے ۔

یاد رہے کہ کشمیر پریس کلب مقبوضہ علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش اور صحافیوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے خلاف احتجاج میں پیش پیش تھا ۔ کشمیر پریس اب کلب مقبوضہ کشمیر میں سول سوسائٹی کی ان تنظیموں کی طویل فہرست میں شامل ہوگیا ہے جنہیں اگست 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی غیرقانونی منسوخی کے بعد سے غیر فعال کردیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button