پاکستانی خبریں

سائفر سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وصول کیا تو حفاظت کی ذمہ داری بھی ان کی تھی،عمران خان کے وکیل نے سائفر کیس میں دلائل مکمل کر لیے

خلیج اردو
اسلام آباد:سائفر کیس میں سزاؤں کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی درخواست پر سماعت۔۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اورجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نےسماعت کی۔

 

دوران سماعت وکیل دفاع بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا سائفر سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے وصول کیا تو حفاظت کی ذمہ داری بھی ان کی تھی۔۔ پرنسپل سیکریٹری نے سائفر کی کاپی واپس نہیں کی.

 

اس پر عدالت نے کہا اعظم خان نے تو کہا ہے کہ میں نے بانی پی ٹی آئی کو سائفر کاپی دی تھی۔استفسار کیا۔۔کیا۔ صدر یا وزیراعظم کو جو چیزیں دی جاتی ہے ان کی ذمہ داری ان کے سیکرٹری پر ہوگی؟ صدر یا وزیراعظم کے سیکرٹری سے اگر کوئی غفلت ہو جائے تو اس کی کیا سزا ہوگی؟

 

دوران سماعت ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا وزیر اعظم سمیت اہم دفاتر میں اہم دستاویزات کی مومنٹ ریکارڈ ہوتی ہے یا نہیں؟اس پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے جواب دیاکہ سائفر جب آجاتا ہے تو ان کی ہر مومنٹ کو ریکارڈ کرنے کے لیے محفوظ کیا جاتا ہے۔

 

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک دستاویز آپ کے پاس آیا، اسے رکھنے کی ڈیوٹی آپ کی نہیں ہے، تو اس کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اعظم خان اچانک غائب ہوتے ہیں، کیس میں نامزد ملزم بنتے ہیں اور پھر 164 کا بیان آجاتا ہے،

 

وکیل دفاع سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایاکہ جو بھی پارٹی چھوڑ دیتے ہیں وہ بری ہو جاتے ہیں۔ہمیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایاجارہاہے۔

 

وکیل دفاع بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل مکمل کرلیئے۔۔۔ایف آئی اے کے سپیشل پراسیکیوٹر نے تیاری کے لیے سماعت ملتوی کرنے کی استدعاکی

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button