متحدہ عرب امارات

اقوام متحدہ نے طالبان رہنماؤں کے لیے سفری پابندی سے متعلق دیا گیا استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا

خلیج اردو
دوحہ: اقوام متحدہ نے جمعے کو طالبان کے 13 عہدیداروں کے لیے سفری پابندی سے استثنیٰ ختم کرنے کے لیے تیار ی کر لی ہے اور سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے ممکنہ توسیع کے حوالے سے کسی بھی معاہدے تک اس پابندی کیلئے اقدامات کیے جائیں گے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2011 کی قرارداد کے تحت 135 طالبان عہدیداروں پر پابندیاں عائد ہیں جن میں اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں شامل ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ نے گزشتہ سال ان رہنماؤں میں سے 13 کو سفری پابندیوں سے استثنیٰ دیا ہے تاکہ وہ بیرون ملک دوسرے ممالک کے عہدیداروں سے مل سکیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 15 رکنی افغانستان پابندیوں کی کمیٹی نے حکومت کی جانب سے خواتین کے حقوق کو پامال کرنے پر طالبان کے دو وزرائے تعلیم کو سفری پابندیوں سے متعلق دی گئی استثنیٰ ختم کر دی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

کمیٹی نے 19 اگست تک دوسروں کے لیے استثنیٰ کی تجدید کی اور اگر کمیٹی کے کسی رکن نے اعتراض نہیں کیا تو مہینہ بھر کی مزید توسیع کی جائے گی۔

تاہم خلیج ٹائمز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ آئرلینڈ نے اس ہفتے مذکورہ استثنیٰ میں توسیع پر اعتراض کیا ہے۔

جب چین اور روس نے توسیع کا مطالبہ تو امریکہ نے سفر کرنے کی اجازت دینے والے اہلکاروں کی فہرست میں کمی کی ہے جبکہ ان مقامات کو بھی کم کیا ہے جن کیلئے وہ سفر کر سکتے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے حوالے سے اے ایف پی کا حوالہ دے کر خلیج ٹائمز نے بتایا کہ میز پر موجود تازہ ترین تجویز صرف چھ اہلکاروں کو سفارتی وجوہات کی بنا پر سفر کرنے کی اجازت دینے کی ہے۔

اس حوالے سے اگر پیر کی سہ پہر تک کونسل کا کوئی رکن اعتراض نہیں کرتا تو یہ تین ماہ کے لیے نافذ العمل ہو جائے گا جبکہ 13 اہلکاروں کے لیے استثنیٰ جمعہ کی آدھی رات کو ختم ہو جائے گا۔

13 افراد میں نائب وزیراعظم عبدالغنی برادر اور نائب وزیر خارجہ شیر محمد عباس ستانکزئی بھی شامل ہیں۔

ان دونوں افراد نے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا جس کی وجہ سے 2020 میں افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کی راہ ہموار ہوئی۔

اقوام متحدہ میں چینی مشن کے ترجمان جو اس وقت سلامتی کونسل کی گردشی صدارت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، نے اس ہفتے سفری پابندی کو انسانی حقوق سے جوڑنے والے مغربی مؤقف کو غیر منصفانہ اور تعصب پر مبنی قرار دیا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگر سفری پابندی کو دوبارہ نافذ کرنا کونسل کے دیگر تمام اراکین کرنا چاہتے ہیں اور بظاہر انہوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال اگست میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ان کے زیادہ لچکدار ہونے کے وعدوں کے باوجود طالبان بڑی حد تک اس ماضی کے سخت حکمرانی کی طرف لوٹ گئے ہیں۔

اب تک کسی ملک نے طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جبکہ 1996 سے 2001 تک قائم رہنے والی طالبان حکومت کو سب سے پہلے پاکستان نے تسلیم کیا تھا۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button