خلیجی خبریں

لبنان اور اسرائیل کے سمندری سرحدی تنازع کا حل امریکاکی اوّلین ترجیح ہے:وائٹ ہاؤس

خلیج اردو: وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے کہا ہے کہ لبنان اوراسرائیل کے درمیان سمندری سرحدی تنازع کا حل تلاش کرنا بائیڈن انتظامیہ کی اوّلین ترجیح ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کے عہدہ دار نے بتایا کہ ہمیں پختہ یقین ہے کہ مجوزہ معاہدے میں دونوں ممالک کے لیے پائیداراستحکام اور معاشی خوش حالی کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود ہوگی۔

لبنان اوراسرائیل تکنیکی طورپر 1948 سے حالتِ جنگ میں ہیں۔دونوں کے درمیان بحرمتوسط (بحیرہ روم) کے قریباً 860 مربع کلومیٹر(330 مربع میل) علاقے پر تنازع چل رہا ہے۔اس علاقے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس میں آف شورگیس کے ذخائر موجود ہیں۔

امریکا برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ثالثی کی کوشش کررہا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن نے منتخب ہونے کے بعد آموس ہوچسٹائن کودونوں ممالک میں ثالثی کا کردار سونپا ہے۔

صدر کے خصوصی رابطہ کار ہوچسٹائن نے حالیہ مہینوں میں بیروت اور تل ابیب کے متعدد دورے کیے ہیں اور ایک معاہدہ طے کرانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن حالیہ ہفتوں میں ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا نے دھمکی دی ہے کہ اگر لبنان کے مطالبات منظور نہیں کیے جاتے تو وہ اسرائیل کے خلاف جنگ کرے گا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

وائٹ ہاؤس کے عہدہ دار نےالعربیہ کو بتایاکہ اگرچہ خصوصی صدارتی رابطہ کارآموس ہوچسٹائن نے حالیہ ہفتوں میں لبنان یا اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے لیکن وہ سمندری حدود کے مذاکرات کی تکمیل کے لیے مصروفیات جاری رکھے ہوئے ہیں۔انھوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے’’مشاورتی جذبے‘‘کا خیرمقدم کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم فریقین کے درمیان خلیج کو کم کرتے رہتے ہیں اورہمیں یقین ہے کہ دونوں میں پائیدارسمجھوتا ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button