پاکستانی خبریںعالمی خبریں

جو کچھ اسلام آباد میں ہوا اس کے بعد سیاسی بداعتمادی کی فضا پیدا ہوگئی ہے، چیف جسٹس آف پاکستان

خلیج اردو
اسلام آباد : پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارعکس دیئے کہ بدھ کے روز کے واقعات کے بعد سیاسی جماعتوں پر اعتماد مجروح ہوا ہے۔ عمران خان کی سیاسی جماعت کے حامیوں کی وجہ سے ہونے والی تباہی نے سیاسی عدم اعتماد کی فضا قائم کی ہے۔

اسلام آباد میں عمران خان کے حامیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان پرتشدد واقعات اور جھڑپوں کا ذکر کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے۔ جب سیاسی درجہ حرارت اتنی زیادہ ہو تو مداخلت مناسب نہیں۔

خلیج ٹائمز نے نیوز انٹرنیشنل اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کی طرف سے دائر درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے چیف عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم یہاں کسی پر الزام لگانے کے لیے نہیں بیٹھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ان کی وابستگی آئین سے ہے اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا۔

پاکستان کا دارلحکومت اسلام آباد بدھ کے روز میدان جنگ میں تبدیل ہو گیا کیونکہ عمران خان اور ان کے قافلے کے شہر میں داخل ہونے اور وفاقی دارالحکومت کے ڈی چوک کی طرف مارچ شروع ہونے کے بعد پولیس اور پی ٹی آئی کے مارچ کرنے والوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان نے دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے اسمبلیاں تحلیل نہ کیں اور نئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کیا تو وہ چھ دن بعد ایک بڑی تحریک کے ساتھ واپس آئیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی جانب سے الزامات اور حکومت سے نئے انتخابات کے مطالبے کا تسلسل ہے۔

جمعہ کو عمران نے آزادی مارچ کے خاتمے کیلئے کسی ڈیل کی خبروں کی تردید کی تھی۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےمسٹر خان نے کہا کہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ہماری کمزوری تھی اور یہ مت سمجھو کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے۔ میں عجیب باتیں سن رہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل ہوئی ہے۔ میں سختی سے مسترد کرتا ہوں۔

بدھ کو ہونے والی جھڑپوں سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ کس طرح پولیس اہلکاروں نے مارچ کے شرکاء پر تشدد کیا۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ پی ٹی آئی کو نشانہ بنانے کے لیے افسران کے تبادلے کررہے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ میں وہ آدمی ہوں جس نے 126 دن تک دھرنا دیا۔ میرے لیے یہ مشکل نہیں تھا کہ میں دھرنا دیتا لیکن جب میں اسلام آباد پہنچا تو مجھے معلوم ہو گیا کہ دھرنا کس حد تک ہے۔ میں نے کسی ممکنہ خونریزی سے بچنے کیلئے یہ اعلان کیا۔

Source: Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button