متحدہ عرب امارات

مغرب میں کرونا وائرس سے متعلق رولز بھی تعصب پر مبنی ہیں ، یہاں اس کی مکمل وضاحت ہے

خلیج اردو
12 ستمبر 2021
دبئی : کیا آپ سیروسیاح کو یاد کررہے ہیں؟ نئے ممالک ، نئے مقامات اور خوبصورت نظاروں کو دیکھنے کی آپ کی تمنا ہے اور آپ مختلف طرح کی خوراک اور دیگر تفریحات سے لطف اندوز ہونے کیلئے انتظار میں ہیں؟

پچھلے اٹھارہ مہینوں کی وجہ سے ہم سب کرونا وباء کی وجہ سے پھنسے رہے ہیں۔ اب گھومنا جہاں مشکل ہوگیا ہے وہاں مختلف وجوہات کی وجہ سے ناممکن بھی ہوا ہے۔

سب سے بڑا نقصان طلبہ کا ہوا ہے جن کا بیرون ملک جاکر پڑھنے کا خواب متائثر ہوا ہے۔ کرونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے اکثر لوگ فیلمیلز کے پاس نہ پہنچ پائے۔ ٹریول اور ٹورزم کی انڈسٹری بری طرح متائثر ہوئی ہے۔

ایسے میں جب کرونا کی صورت حال تھوڑی بہتر ہوئی تو جہاں بہت سے ممالک نے اپنے سرحدات پر غیر ملکیوں اور ملازمین اور سیاحوں کو خوش آمدید کہا وہاں ایسے ممالک بھی ہیں جو ان لوگوں کیلئے رکاوٹیں کھڑی کررہے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

جہاں کرونا وائرس نے ہماری زندگی بری طرح سے متائثر کی ہے اور ہمیں ہر حوالے سے محدود کیا ہے تو ایسے میں امید کی ایک کرن بھی ضائع نہیں ہونی چاہیئے اور جہاں تک ممکن ہو ملکر اس سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنا چاہیئے۔

بھارتی کوویشیلڈ کے ساتھ دونوں ویکسین لگوائی گئی ہے وہ اب سیاحت کیلئے فرانس ، سوئٹزرلینڈ ، متحدہ عرب امارات ، کینیڈا ، مالدیپ وغیرہ جیسے ممالک میں جا سکتے ہیں۔ لیکن امریکہ اب بھی بھارت سے غیر ضروری سفر کی اجازت نہیں دے رہا ہے یہاں تک کہ یورپ اور برطانیہ سےاگر وہ امریکہ جانا چاہیئے تو انہیں اجازت نہیں۔

اس بحوالے سے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے لوگوں میں کافی غصہ اور نارضگی پائی جاتی ہے جنہوں نے امریکی مسافروں کیلئے اپنے دروازے تو کھول دیئے ہیں لیکن امریکہ ان کے شہریوں کو اجازت نہیں دے رہا۔

ایسے میں برطانیہ جس کے پاس سفر کیلئے ایک ٹریفک لائٹ کا نظام ہے ، نے حال ہی میں بھارت کو اپنے ٹریول فہرست کے امبر لسٹ میں ڈال دیا ہے ۔ امبر لسٹ خوفناک ریڈ لسٹ سے ایک درجے نیچے ہے ۔

اس کا مطلب ہے کہ ڈبل ویکسین والے بھارتی اب گھر یا اپنی مرضی کے مقام پر قرنطینہ میں رہ سکتے ہیں۔ لازمی طور پر ہوٹل قرنطینہ کے بجائے دس دن کیلئےاپنے لیے قرنطینہ مقام کا انتخاب کرنا ان کیلئے اجازت ہے اور اگر آپ پانچویں دن ایک ایکسٹرا پی سی آر ٹیسٹ کیلئے ادائیگی کرتے ہیں تو آپ کو قرنطینہ سے نکلنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ا

بھارتی جب برطانیہ جاتے ہوں تو وہ 72 گھنٹے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کرانا لازمی ہے اور پھر وہاں پہنچنے کے دوسرے اور اٹھویں دن کرانا لازم ہے۔

اب اس میں امتیازی سلوک کی انتہا یہ ہے کہ برطانیہ نے امریکہ دور دیگر یورپی ممالک جو امبر فہرست میں ہیں اور دونوں ویکسین لگوا چکے ہیں ، انہیں ہر طرح کے قرنطینہ سے آزاد کیا ہے۔ ان میں آسٹرازینیکا ویکسین بھی شامل ہے لیکن یہی ویکسین جب بھارت میں لگوائی جاتی ہے تو اسے قبول نہیں کیا جاتا۔

اس حوالے سے برطانیہ نے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں دی ہے۔ امریکہ کوویشیلڈ کو تسلیم نہیں کرتا جبکہ ڈبلیو ایچ او نے کیا ہے۔

آسٹریلیا جیسے ممالک نے تو انتہا کر دی ہے کیونکہ انہوں نے تو اپنے شہریوں کو ملک واپس آنے سے منع کیا ہے اور ان کیلئے بہت مشکل بنایا ہے کہ وہ گھر واپس آئے۔ اس نے آسٹریلیا کی آزادی جمہوریت کو بھی مشکوک بنایا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بارڈر بند کرنے یا مشکلات پیدا کرنے کے بجائے ہمیں سفر کو آسان بنانا ہوگا۔ ہم پہلے سے بہت متائثر ہوچکے ہیں اور ہم مزید بندشوں یا مشکلات سے اور متائثر ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت سے منظور شدہ ویکسین اور ساتھ میں پی سی آر ٹیسٹ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے قرنطینہ سے متعلق رولز یکساں رکھنے کی ضرورت ہے۔

Source : Khaleej Times

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button