Uncategorized

کورونا کیسز میں اضافہ‘ ابوظہبی میں داخل ہونے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان

30 دسمبر سے ویکسین لگوانے والے افراد الحوسن ایپ پر گرین سٹیٹس دکھائیں گے‘ غیر ویکسین شدہ افراد کو 96 گھنٹوں کے اندر موصول ہونے والا منفی پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ پیش کرنا ہوگا

ابوظہبی میں داخلے کے لیے گرین پاس اور پی سی آر ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا گیا ، ویکسین لگوانے والے افراد الحوسن ایپ پر گرین سٹیٹس دکھائیں گے اور غیر ویکسین شدہ کیٹیگریز کو 96 گھنٹوں کے اندر موصول ہونے والا منفی پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ پیش کرنا ہوگا۔ اماراتی میڈیا کے مطابق ابوظہبی ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹر کمیٹی نے متحدہ عرب امارات کے اندر سے امارات میں داخل ہونے کے طریقہ کار کو اپ ڈیٹ کیا ہے جس میں ویکسین لگائے گئے افراد کے لیے گرین پاس اور ان لوگوں کے لیے منفی پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ درکار ہے جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ جمعرات 30 دسمبر 2021ء سے ممکنہ کورونا کیسز کا تیزی سے پتہ لگانے کے لیے EDE سکینر استعمال کرنے کے علاوہ داخلے کے نئے تقاضے صحت عامہ کے تحفظ کے لیے احتیاطی تدابیر کو بڑھانے کی کوششوں کے مطابق ہیں ، جس کے تحت متحدہ عرب امارات کے اندر سے امارات میں داخل ہونے کے لیے کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی ویکسین لگوانے والے افراد اب الحوسن ایپ پر گرین سٹیٹس دکھائیں گے اور غیر ویکسین شدہ کیٹیگریز کو 96 گھنٹوں کے اندر موصول ہونے والا منفی پی سی آر ٹیسٹ کا نتیجہ پیش کرنا ہوگا۔

علاوہ ازیں وزارت صحت اور روک تھام نے متحدہ عرب امارات میں کیے گئے مطالعے کے ڈیٹا کی کڑی نگرانی اور تشخیص کے بعد کورونا وائرس سے متعلق سائنو فارم کی نئی ریکومبیننٹ پروٹین ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دے دی ہے ، وزارت نے تصدیق کی کہ نئی ویکسین کا ہنگامی استعمال لائسنس دینے کے طریقہ کار کا تیز تر جائزہ لینے کے لیے ضوابط اور قوانین کی مکمل تعمیل کرتا ہے ، صحت کے حکام کے تعاون سے کمیونٹی کے اراکین کو کووِڈ 19 کی وبا سے بچاؤ میں اضافہ کرنے کے لیے یہ وزارت کی محنتی کوششوں کا حصہ ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ نئی ویکسین حیات بائیوٹیک کی طرف سے تیار اور تقسیم کی جائے گی ، جو کہ G42 اور چائنہ نیشنل فارماسوٹیکل گروپ کے ایک یونٹ چائنہ نیشنل بائیو ٹیک گروپ (سی این بی جی) کے درمیان ایک مشترکہ ادارہ ہے ، جب کہ یہ ویکسین جنوری 2022ء سے عوام کے لیے بوسٹر ڈوز کے طور پر دستیاب ہوگی جو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے حصے کے طور پر شروع ہوگی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button